ہفتہ 19 ستمبر 2026 - 13:37
دنیا عارضی ہے اور آخرت انسان کی حقیقی منزل ہے: حجۃالاسلام مولانا تنویر الحسن

حوزہ/ غازی پور اتر پردیش کے امام جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا تنویر الحسن نے خطبۂ جمعہ میں سورۂ احزاب کی آیت 21 کی روشنی میں سیرتِ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، جبکہ انسان کی حقیقی منزل آخرت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غازی پور اتر پردیش کے امام جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا تنویر الحسن نے خطبۂ جمعہ میں سورۂ احزاب کی آیت 21 کی روشنی میں سیرتِ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، جبکہ انسان کی حقیقی منزل آخرت ہے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کو توحید، رسالت اور آخرت پر یقین کی بنیاد پر زندگی گزارنے کا راستہ دکھایا۔ صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ حقیقی ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کے تابع کرے اور اپنی زندگی اسی کے مطابق گزارے۔

امام جمعہ غازی پور نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے جہاں شرک، جہالت اور مختلف سماجی برائیاں عام تھیں۔ آپؐ نے مسلسل تبلیغ، جدوجہد اور اخلاقی تربیت کے ذریعے لوگوں کی سوچ اور زندگی میں تبدیلی پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ آخرت پر مضبوط یقین انسان کے کردار اور ترجیحات کو بدل دیتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کو صرف دنیاوی فائدے کی نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ ان کے آخری انجام کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ توحید کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ کو اپنا حقیقی مالک مانے اور اس کی مرضی کو اپنی خواہش پر ترجیح دے۔

مولانا تنویر الحسن نے یقین اور توکل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کرنی چاہیے اور اس کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔ توکل کا مطلب ذمہ داری سے فرار نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔

خطبے کے دوسرے حصے میں انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت اور دینی تعلیمات کے تحفظ میں آپؑ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ائمۂ اہل بیت علیہم السلام نے سخت سیاسی حالات اور مسلسل نگرانی کے باوجود دین کی حقیقی تعلیمات کی حفاظت کی اور لوگوں کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے وکلا اور نمائندوں کے ذریعے لوگوں کے دینی مسائل کے جوابات، خمس کی وصولی اور مذہبی رہنمائی کا نظام جاری رکھا، جو دورِ غیبت میں شیعہ معاشرے کی دینی رہنمائی کے لیے اہم ثابت ہوا۔

آخر میں انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ سیرتِ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کا مطالعہ کریں اور ان کی تعلیمات کو اپنی ذاتی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔ حقیقی معرفت وہی ہے جو انسان کے کردار اور عمل میں ظاہر ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha